
ماہانہ 2 لاکھ کمانے
والے افراد پرائم میکس شرح 2.5 فیصد اضافہ
،BISP پروگرام 16 ارب
بڑھادیا گیا، سپر ٹیکس 50 کروڑ پر لکھے
گا 10 لاکھ ڈالر زر مبادلہ ایمنسٹی سکیم
ختم
مجموعی ٹیکس اقدامات 438 ارب ہو گئے
، اخراجات کٹوتیوں کا تنخواہ ، پنشن
پر اثر نہیں پڑیگا، IMF سے معاہدہ ہو جائے تو
بسم اللہ ، نہیں تو گزارہ ہو رہا
ہے ، وزیر خزانہ
ماہانہ 2 لاکھ کمانے والے افراد پرائم
میکس شرح 2.5 فیصد اضافہ ،BISP پروگرام 16 ارب بڑھادیا گیا،
سپر ٹیکس 50 کروڑ پر لکھے گا 10 لاکھ ڈالر زر مبادلہ ایمنسٹی سکیم ختم مجموعی ٹیکس
اقدامات 438 ارب ہو گئے ، اخراجات کٹوتیوں کا تنخواہ ، پنشن پر اثر نہیں پڑیگا، IMF سے معاہدہ ہو جائے تو بسم اللہ ، نہیں تو گزارہ
ہو رہا ہے ، وزیر خزانہ اسلام آباد ( شہباز رانا، خالد محمود ، ارشاد انصاری)
حکومت نے وفاقی بجٹ میں 300 ارب روپے کی مزید الہ جشونٹ کا اعلان کیا ہے جس میں
215 رب کے لئے نکاس جبکہ 185ر ب کی اخراجات میں کٹوتیاں شامل ہیں تا کہ بین
الاقوامی مالیاتی باند ( آئی ہے ایف) کے ساتھ بہت تاخیر سے لے پانے والے معاہدے کو
مکمل کیا جاسکے کے اقدامات میں تنخواہ دار طبقے پر نیکس کا ہو جو بڑھا اور ایک
لاکھ ڈالر کے الٹانوں کو سفید کرنے کی سکیم کو واپس لینا بھی شامل ہے۔
تحصیلات کے
مطابق وزیر خزانہ اسحاق اور نے قومی اسمبلی میں بہت بحث سمیٹتے ہوئے بتایا کہ 60
پاکستان نے آئی ایم ایف کے زیادہ تر مطالبات کو تسلیم کر لیا، پٹرولیم مصنوعات پر
لیوی 50 کے بجائے روپے کی جائے گی جبکہ جاری اخراجات میں 85 ارب روپے کی کٹوتی کا
فیصلہ بھی کر لیا گیا۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP)
کے مستحقین کے وکیلے میں بھی اضافہ کیا۔ تا ظیر انکم سپورٹ پروگرام کا جو روایت
450 ارب روپے سے بڑھا کر 466 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے 19 جون کو
اعلان کر دہ 14800 ارب کے بیٹ میں 215 ارب روپے کے مزید نئے ٹیکس اقدمات اور اخراجات
میں 65ارب روپے کی خالص کٹوتی کا اعلا نکر دیا۔ بجٹ کا حجم اب جزوی طور پر 20 ارب
روپے تک ایڈ جسٹ کر دیا گیا ہے۔ تازہ اضافے کے ساتھ حکومت نے اب تک 439ارب روپے کے
نئے ٹیکسوں کی گجر برادی ہے جو آنکھ مالی سال 2023-24 سے لوگوں اور کمپنیوں سے
وصول کیے جائیں گے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس وصولی کا
برف 9415 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا، جس کے لیے معیشت سے کم از کم 215 2 ارب روپے
اضافی وصول کرنے کی ضرورتے ہوگی، پاکستان اور آئی ایم ایف نے زیر التواء جائزہ کو
مکمل کرنے کی آخری کوشش کے طور پر تفصیلی مذاکرات کیے تھے "۔
یہ بات اسحاق
ڈار نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں آنند و مالی سال سے
215 ارب روپے کے حتمی اضافی ٹیکس اقدامات عائد کیے جار ہے ہیں۔ اسحاق ڈار نے دعوتی
کیا کہ اس کا عام لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ایف بی آر کے سینئر حکام کا کہنا
ہے کہ نئے اقدامات میں تنخواہ دار اور کاروباری افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں
اضافہ بھی شامل ہے۔ ایف بی آر کے سینئر افسر نے کہا کہ سلیب کے لیے موجود و کم
ٹیکس کی شرح 20 فیصد سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد گنو او ار اور خیر خواہ دار
کاروبار کے لیے مزید بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ، ایف بی آر کے سینئر افسر نے
بتایا کہ اس وقت ماہانہ دولاکھ روپے کمانے والے افراد انکم ٹیکس کی مد میں 20 فیصد
ادا کر رہے ہیں جس میں اب مزید اضافہ کر دیا گیا۔ ایک اور حکومتی عہدیدار نے بتایا
کہ آئندہ مالی سال میں سو او دار اور غیر گواہ دار افراد سے 30 ارب روپے اضافی
وصول کیے جائیں گے۔
کمار کی فروخت پر 3 روپے فی کلو گرام فیڈرل ایکسائز ایونی (ایک
ہی ای) لگانے اور جو س پر ایساقی ای میں 10 سے 20 فیصد اضافے کی تجویز بھی دی گئی۔
ایف بی آر کے عہدیدار نے کہا کہ کھاد پر نئے ٹیکس کے نفاذ سے کم از کم 45 ارب روپے
کی وصولی ہو گی۔ ہے گردن توڑ ندا کر اے تے اور آخر کار ہم نے یہ کر لیا۔ وزیر
مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ پاشا نے کہا کہ سٹاف لیول کا معاہدہ اور 1.2 بلین
ڈالر مالیت کے نویں جائزے کی منظوری کے لیے بورڈ میٹنگ 30 جون سے پہلے مکمل ہو
جائے گی۔ حکومت نے جائیدادوں کی خرید و فروخت پرور ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں نمایاں
اضافہ کرنے کی تجویز بھی دی جس سے ایف ٹی آر حکام کا کہنا ہے کہ آسند والی سال میں
35 ارب روپے انسانی حاصل ہوں گے ۔
2000 سے زیادہ کیا مگر یزکی گاڑیوں پر نیا ٹیکس
بھی متعارف کرایا گیا۔ تاہم اگر حکومت د بیارم اینڈ ریوند موبلائزیشن کمیشن کی
رپورٹ میں دی گئی سکھ سلار شات کو اپنائیتی تو کو او دار طبقے اور کسانوں پر ہو جو
ڈالنے سے گریز کرتی۔ آر آرایم سی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تایا
کہ بر آمد کنندگان کی کم در کم ٹیکس کی حیثیت ختم کرنے کی آر آر ایم سی کی ایک
تجویز سے تقریبا 0 25 رب روپے کمائے جائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آر آرایم سی
کی رپورٹ کی پانچ اعلیٰ ریونیو تجاویز سے اشرافیہ سے 635 ارب روپے حاصل ہو سکتے
تھے جبکہ آئی بی ریپ کے ساتھ 215 ارب روپے کے اضافی ٹیکس انے سے 250 ملین
پاکستانیوں پر بوجھ پڑے گا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے تمام پیشگی کارروائیاں
مکمل کر لی ہیں اور خذ کے مطالبے کی تعمیل حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، آیت
کا حجم 20 ارب روپے مزید اضافے کے ساتھ 14,480 ٹریلین روپے ہو گیا ہے۔ مذکورہ تمام
اقدامات کی وجہ سے مجموعی بجٹ خسارے میں بہتری آئے گی۔ یاد رہے وزیر خزانہ نے دعوی
کیا تھا کہ وہ پاکستان کو سری لنکا بنانا چاہتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ جغرافیائی
سیاست کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے نمائندے ایستر پیریز روئز نے
پہلے کہا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کو تعین معاملات پر مطمئن کرنے کی ضرورت
ہے ، جس میں آئندہ کا بجٹ بھی شامل ہے ۔ وزیر خزانہ نے مزید کیا کہ در آمدات پر
مزید کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیسٹ دیک نے تمام
پابندیاں بنادی ہیں در آمدات کے حوالے سے تمام رکا نہیں ختم کر دی گئی ہیں۔ اسحاق
ڈار نے کہا کہ وفائی بیٹ کے ضمن میں تمام تر مالی مشکلات کے باوجود ضروری فنڈز
فراہم کر رہے ہیں۔ قومی بچت کی سکیموں میں سرمایہ کاری کی حد کو بڑھا کر 75 لاکھ
کر دیا۔ ٹیوب ویلز کی سولرائز یشن کیلئے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، نوجوانوں
کیلئے مختلف منصوبوں میں 31 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں کوئی ری از اطر صرف ایک
ادارے سے پیشن حاصل کرے گا . ہر فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا اور دو جگہوں
سے پاشن لیری نا انصافی ہے ناشر اور ان کی اہلیہ کی وفات کے بعد صرف دس سال تک
پاکن لی جاسکے گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سالانہ 35 سے 40 کروڑ رو پے
کھانے والی کمپنیوں پر 6 فیصد پر ناس ماکہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی
ایم ایف کے تمام نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے۔ آئی ایم ایک سے اسٹاف لیول معاہد ہ
ہو جائے تو ہم اللہ نہیں تو گزارہ ہو رہا ہے ۔ ہم چاری اخراجات میں 85 ارب روپے کی
کمی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نہ پی ایس ڈی پی میں کی جائے گی ، نہ اس کا
نفاذ سرکاری ملازمین کی سیلری یا پینشن پر ہو گا۔ ایکسٹرنل فنانسنگ میں کمی کی وجہ
سے دو سو تیر وارب کے نئے ٹیکس انگارہے ہیںا۔ حکومت کی کل اخراجات کا تخمینہ 14
ہزار سے 400 ارب روپے سے بڑھ کر 14 ہزار 480 ارب روپے ہو جائے گا۔ مشن کا ہو
تخمینہ لگایا گیا ہے ہے وہ آنکہ مالی سال 781 ا ر ہے رو پہلے سے بڑھے کر 1 80 ارب
روپے ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کے لیے ترقیاتی بجٹ یا تنخواہوں میں اضافے
پر کٹ نہیں لگے گا۔
0 Comments