*حکومت پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ*
*مطلب ابھی آئی ایم ایف کے شرائط پورے نہیں ہوئے مزید غریب عوام پر بوجھ ڈالا جائے*
*ذرا جرآت کے ساتھ*
*میر اسلم رند*
وزیر اعظم پاکستان کے اعلامیہ اور ٹی وی چینلز کے ذریعے پتہ چلا ہے حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں لیکن اس میں ایک شرط رکھی گئی ہے کہ یہ ایگریمنٹ 9 ماہ کے لئے اسٹینڈ بائی ہو گا یعنی پاکستانی قوم پر مزید بجلی گرانے کا پروگرام ہے پہلا بم تو وزیر خزانہ صاحب نے عوام پر ڈیزل کے نرخ میں 7 روپے اضافے کر کے گرا دیا ہے ابھی مختلف شکل میں مزید بم گرانے کا پروگرام ہے سننے میں آیا ہے 4 روپے بجلی کے یونٹ میں اور گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد مزید اضافہ پروگرام بنایا گیا ہے اسکے علاوہ بقول معاشی تجزیہ کاروں کے آئی ایم ایف کا یہ بھی ڈیمانڈ ہے بینکوں سے لئے گئے سود میں مزید 8 یا 10 فیصد اضافہ کیا جائے یعنی 32 فیصد سود لیا جائے اس وقت بینکوں سے سود کا ریٹ 23 فیصد ہے اب مزید بڑہانے کا ڈیمانڈ ہے،
یہ قانون بھی صرف ان غریب زمین داروں مکان بنانے والے سرکاری ملازمین اور چھوٹے کاروباروں کے لئے ہو گا جن کی اپنی سقت نہیں ہے سرمایہ داروں کے لئے 8 سے 10 فیصد ہو گا جو پہلے 3 سے 5 فیصد ہوا کرتا تھا یہ سرمایہ دار لوگ ویسے بھی بینکوں سے پیسے لیکر معاف کرواتے ہیں اب ان کے لئے مزید آسانیاں پیدا کی جائیگی نئے بجٹ قانون کے مطابق آپ جب چیک اور کارڈ کے ذریعے بینکوں سے پیسے نکلوائیں گے تو آپ کو 5 سے 6 فیصد بدماشی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا یاد رہے یہ ٹیکس 2013 میں بھی رائج کیا گیا تھا جس کی تاجروں نے بھرپور مخالفت کی تھی لیکن 2017 کے بعد یہ ٹیکس ختم ہو گیا تھا اب موجود حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبہ پر دوبارہ یہ ٹیکس رائج کر دیا ہے اس کا مطلب ہے اب ہنڈی اور حوالے کا کاروبار عروج پر پہنچے گا پاکستان اور آئی ایم ایف کا پروگرام صرف 9 ماہ کے لئے ہیں اس 9 ماہ میں آئی ایم ایف مزید شرائطوں کے بعد پاکستان کو 3 ارب ڈالر مہیا کریگا 1 ارب ڈالر ایشین ترقیاتی بینک سے ملیں گے کچھ چائنا اور سعودی ارب سے ادھار لئے جائیگے ٹوٹل 5 سے 6 ارب ڈالر پاکستان کو ملیں گے اور پاکستان نے 6 ماہ کے دوران 10 ارب 35 کروڑ ڈالر سود کی مد میں واپس کرنے ہیں یہ کہاں سے آئیں گے یہ اللہ بہتر جانتا ہے پاکستانی ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے لوکل ٹیکسوں میں بھی نمایا کمی دیکھی جا رہی ہے کئی بڑی کمپنیوں نے اپنے کارخانے بند کر دیئے ہیں اگست کے مہینے میں حکومت نے 35 فیصد ملازمین کی تنخواہوں کا بوجھ بھی برداشت کرنا ہے ایک ماہ کے بعد اس حکومت کی معیاد بھی ختم ہو رہی ہے اگست میں نگراں حکومت بنے گی اللہ بہتر جانتا ہے یہ حکمران اس ملک کے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں
کوئٹہ کے کئی دوستوں سے پتہ چلا ہے جس دن سے نئی وفاقی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے کوئٹہ میں ہنڈی اور حوالہ کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے اب اس کاروبار سے بھی کئی محکمے استفادہ حاصل کریں گے ان کا حصہ ان کو ملتا رہے گا کبھی کبھی جھوٹ موٹ کی کاروائی ہوا کریگی لیکن حوالہ کا کاروبار زور شور سے جاری رہے گا
بازار میں یہ بات بھی سننے کو مل رہا ہے کوئٹہ میں ڈالر کا ریٹ قندھار کے منی چینجر رکھتے ہیں کوئٹہ میں ڈالر کے ریٹ کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب قندھار میں ڈالر کا ریٹ متعین کیا جاتا ہے
حکمران اور قابض ٹولہ پاکستان کو کس جانب دھکیل رہے ہیں یہ وہی جانے لیکن میری سمجھ میں جو آ رہا ہے اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کر رہا ہے
اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے وہ اپنے آنے والوں نسلوں کے مقدر کا فیصلہ کیسے کرتے ہیں

0 Comments